چنتامنی:30 /جنوری(محمد اسلم/ایس او نیوز)بچوں کی صلاحیت کو ابھارنے میں والدین اور اساتذہ کا بنیادی کردارہوتا ہے یہ بات کنڑا شاعر کے ۔ایس۔نور اللہ نے کہی انہوں نے تعلقہ مئے لاپور سرکاری کنڑا اسکول میں منعقدہ کنڑا کارنجی تقریب کا افتتاح کرنے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ مرکزی و ریاستی حکومتیں تعلیم کو عام کرنے اور معیاری تعلیم دینے پر توجہ دے رہی ہے اور کئی اسکیم لاگو کرتے ہوئے والدین کا بوجھ کم کررہی ہے ایسے وقت میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لئے توجہ دیں ورنہ آج کے دور میں تعلیم نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔نور اللہ نے کہا کہ ہندوستان ایک روایتی تہذیب اور تمدن والا ملک ہے یہاں پر کسی ایک مخصوص تہذیب کو دوسری تہذیب پر فوقیت حاصل نہیں ہے ملک کی تہذیب اور ثقافت کے تحفظ کی ذمہ داری صرف چند باشندوں یا سرکاری حکام نہیں بلکہ تمام افراد پر عائد ہوتی ہے ہمارے ملک کی تہذیب جتنی قدیم ہے اس پر اتنا ہی ہمیں ناز کرنا چاہئے ۔
انہوں نے ملک کی تہذیب اور ثقافت کے تحفظ کے لئے اساتذہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماں صرف ایک بچے کی پرورش کرتی ہے جبکہ ایک معلم ایک معاشرے اور ملک کے نونہالوں کی تربیت کرتا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اساتذہ کا مقام کیا ہے بچے ویسے تو قدرتی طور پر معصوم ہوتے ہیں لیکن ان کی معصومیت میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں اگر اساتذہ بچے کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچان کر اسے نکھار نے میں مدد کریں تو عین ممکن ہے کہ آج کے یہ معصوم بچے کل بھارت کی تعمیر نو میں نمایاں کردار ادا کریں۔نور اللہ نے کہا کہ ایک سنگ تراش جس طرح بے جان پھتر کو فنی مہارت کے ذریعے سے خوب صورت مورتی میں تبدیل کردیتا ہے اسی طرح اساتذہ اپنے عمدہ علم اور فن کے ذریعے ایک سماج کو نکھار سکتے ہے قابلیت اور ہنرمندی پیداکرنے کے لئے بچوں کو تہذیب اور تمدن کی تعلیم دیں ہماری تہذیب ہی بچوں کی قابلیت اور ہنرمندی کے لئے نمایاں کردارادا کرسکتی ہے۔اس موقع پر ننجپا ریڈی نے بھی خطاب کیا اس موقع پر میر معلم این۔گوپال ریڈی سی۔آر۔پی۔ایشو ریڈی ،روی گرام پنچایتی رُکن چوڈاریڈی ایس ڈی ایم سی صدر ناگیش رُکن امبریش شرنیواس سمیت کئی احباب موجود رہے ،اس موقع پر اسکول کے کئی طالبات کو انعامات وغیرہ دیا گیا۔